شراب خور

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - شراب خوار، شراب کا عادی، رسیا۔ "شراب خوروں اور شراب فروشوں کو میں نے کنوؤں والے قید خانوں میں ڈلوا رہتا ہوں۔"      ( ١٩٦٩ء، تاریخ فیروز شاہی، (سید معین الحق)٤٣٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'شراب' کے بعد فارسی مصدر 'خوردن' سے صیغۂ امر 'خور' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٨ء کو "چندرا وتی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شراب خوار، شراب کا عادی، رسیا۔ "شراب خوروں اور شراب فروشوں کو میں نے کنوؤں والے قید خانوں میں ڈلوا رہتا ہوں۔"      ( ١٩٦٩ء، تاریخ فیروز شاہی، (سید معین الحق)٤٣٢ )